30

توشہ خانہ ریفرنس، احتساب عدالت کا نوازشریف کی ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم

(آتش نیوز) سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔احتساب عدالت نوازشریف کی ضبط شدہ جائیداد اور اثاثے واپس کرنے کا حکم دے دیا گیا۔احتساب عدالت نے جائیداد ضبطگی کے احکامات واپس لے لیے۔عدالت نے نوازشریف کی پراپرٹیز ، گاڑیاں ، بینک اکاؤنٹس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے احکامات جاری کیے۔ 24 اکتوبر2023ء کو احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں نوازشریف کے دائمی وارنٹ منسوخ کر دیئے گئے تھے۔ نواز شریف نے توشہ خانہ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سامنے سرینڈر کیا تھا جس پر عدالت نے نواز شریف کے دائمی وارنٹ منسوخ کر دیئے تھے۔کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو عدالتی حکم پر نواز شریف نے روسٹرم پر آ کر حاضری لگائی، جس کے بعد فاضل جج محمد بشیر کی اجازت سے نواز شریف کمرہ عدالت سے روانہ ہوگئے۔

اس کے بعد نواز شریف کے وکیل محمد عرفان کمرہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے نواز شریف کو 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانےکی ہدایت کی جس پر نواز شریف کی قانونی ٹیم نے 10 لاکھ روپےکے مچلکے عدالت میں جمع کروا دیے۔وکیل صفائی قاضی مصباح کا کہنا تھا کہ جب آپ حکم کریں گے نواز شریف عدالت میں پیش ہو جائیں گے۔عدالت نے جائیداد ضبطی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 نومبرکو جائیداد ضبطی کی درخواست پر دلائل طلب کرلیے۔
نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سرینڈر کردیا ہے ان کے وارنٹ منسوخ کردیں، وارنٹ منسوخ ہوں گے تو ٹرائل آگے چلےگا۔احتساب عدالت نے نواز شریف کے دائمی وارنٹ بھی منسوخ کردیے۔عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی۔نوازشریف کے وکیل قاضی مصباح نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں 3 درخواستیں دائر کیں۔وکیل کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی ضم شدہ پراپرٹی بحال کرنےکی درخواست دائر کی گئی ۔ دوسری درخواست کی گئی ہےکہ توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کا وکیل مقرر کیا جائے۔ عدالت میں نواز شریف کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی درخواست بھی دائر کی گئی۔نوازشریف کے ضمانتی کے طور پر ن لیگی رہنما طارق فضل چوہدری کو مقرر کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں