14

رانی پور کی حویلی میں جاں بحق ہونے والی کمسن ملازمہ کی میڈیکل رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف

(آتش نیوز) رانی پور کے پیر کی حویلی میں تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جانے والی بچی فاطمہ کے ساتھ ایک نہیں کئی افراد کی جانب سے زیادتی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بچی فاطمہ سے ایک نہیں کئی افراد نے زیادتی کی جس کی رپورٹ میں تصدیق ہو گئی۔نگران وزیر صحت ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے کہا کہ پنجاب بھیجے گئے سیمپل کی رپورٹ منفی آئی۔
لمس جامشورو لیبارٹی کی رپورٹ میں فاطمہ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی۔رپورٹ میں بچی کے ساتھ ایک سے زائد افراد کی جانب سے زیادتی کی نشاندہی کی گئی۔غفلت برتنے پر ایم ایس خیرپور سمیت دو افراد کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جا چکی ہے۔تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے۔کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

قبل ازیں صوبہ سندھ کے نگران وزیر قانون عمر سومرو نے انکشاف کیا ہے کہ رانی پور میں پیش آئے فاطمہ قتل کیس میں پیر کے ڈی این اے سیمپل تعلقات کی بنا پر خراب کیے گئے اور جب وسری جگہ سے ٹیسٹ کروائے تو ڈی این اے میچ ہوگیا۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے افسران نے پیر سے تعلقات کی بنیاد پر سیمپل تباہ کر دیے تھے،‎ پنجاب سے ٹیسٹ کروانے پر ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوا اور لاہور کی لیبارٹری نے مثبت رپورٹ دی، ڈی این اے رپورٹ میں ملزم کے اجزا میچ کرنے کی خبر بہت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم بحیثیت قوم اسٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا ہوچکے ہیں، میں ایپکس کمیٹی میں بھی شامل رہا ہوں وہاں اجلاس میں بریفنگ ملی تو پتا چلا قبائلی سردار اور عوامی نمائندے کچے کے علاقے میں جرائم کا ذمہ دار افراد کے سرپرست تھے۔
بتایا جارہا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں فاطمہ کے لواحقین کے وکلا کا کہنا تھا کہ رانی پور کے گھر میں کام کرنے والی کمسن فاطمہ سے زیادتی کی تصدیق ہو گئی تاہم زیادتی کس نے کی یہ طے ہونا باقی ہے، مقتولہ بچی کے مرنے کے بعد کپڑے تبدیل کیے گئے تھے جس پر عدالت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ جن کپڑوں میں بچے کی موت واقع ہوئی تھی وہ کپڑے برآمد کیے جائیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں