5

نگران وزیراعلی کا مارکیٹیں اور دکانیں زبردستی بند کرانے کے واقعہ کا سخت نوٹس

(آتش نیوز) نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے بعض علاقوں میں مارکیٹیں اور دکانیں زبردستی بند کرانے کے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آج 10نومبر کو مارکیٹیں اور دکانیں بند کرانے کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ اسموگ کی وجہ سے صرف ہفتے کے روز(11نومبر)کو دکانیں اور مارکیٹیں بندرکھنے کا فیصلہ کیا۔
بارش اور حکومت پنجاب کے اقدامات کے باعث آج سموگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ میں ذاتی طور پر اور پنجاب حکومت کی جانب سے تعاون پر تاجربرادری کا شکریہ ادا کرتا ہوں،محسن نقوی نے مزید کہا کہ اسموگ سے نمٹنا ایک قومی ذمہ داری ہے اور ہم نے لاہور اور اپنے شہروں کو رہنے کے قابل بنانا ہے، اس ضمن میں حکومتی اقدامات کا ساتھ پورے معاشرے کو دینا ہو گا،تبھی ہم اس آفت سے نبرد آزما ہو سکیں گے۔

خیال رہے کہ لاہور میں دفعہ 144 کا نفاذ کرانے کے لیے پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے عابد مارکیٹ بند کرانے کے لیے کریک ڈاؤن کیا۔پولیس نے عابد مارکیٹ میں دکانیں بندا کروا دیں۔اس دوران مزاحمت کرنے پر ایک دکاندار کو حراست میں بھی کیا گیا۔اس کے علاوہ بھی متعدد مارکیٹس بند کرا دی گئیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور علی ناصر رضوی نے اسموگ کی شدت کے باعث لگائے جانے والے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا حکم دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار صبح دس گیارہ بجے تک رومیو بن کر گھروں میں رہیں گے تو لاہور کیسے چلے گا؟ ڈی آئی جی نے پولیس افسران کو وائرلیس میسج میں کہا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاون کے دوران فورس 24 گھنٹے متحرک رہے گی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پولیس افسران رمیو پوزیشن تبدیل کریں، اگر صبح دس گیارہ بجے تک گھروں میں رومیو بن کر رہیں گے تو لاہور کیسے چلے گا!6 بجے دفتروں کو تالا لگا کر گھر جانے والا رواج نہیں رہا اور کوئی ایسی کوشش بھی نہ کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں