36

غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری،مزید 300 سے نہتے مسلمان شہید

(آتش نیوز) اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام، اسرائیلی فورسز کی غزہ پر وحشیانہ بمباری،مزید 300 سےزائد فلسطینی شہید ہوگئے،شہدا کی مجموعی تعداد 17 ہزار 750 ہو گئی،شہادت پانے والوں میں 47 ایتھلیٹ بھی شامل ،صیہونی ریاست کے حملوں میں 48 ہزار سے زائد افراد زخمی،خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن بھی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رہا۔اسرائیلی فوج نے غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 250 سے زیادہ حملےکیے، رہائشی علاقوں میں بمباری سے کل سے اب تک 300 فلسطینی شہید ہوگئے، متعدد فلسطینی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں دبے ہیں۔صیہونی فوج نے خان یونس سے رفح جانے والی سڑک بھی بمباری سے تباہ کر دی، اسپتالوں اور ایمبولنسوں پر بھی حملےکیے جس میں 2 طبی کارکن شہید ہوگئے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے خاتمےکے بعد غزہ میں 3500 اہداف پر حملےکیے جب کہ جنگ کے آغاز 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی افواج نے غزہ میں 22 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا۔
واضح رہےکہ 7 اکتوبر سے اب تک فلسطینی شہدا کی تعداد 18 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ زخمی افراد کی تعداد 48 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والوں میں 8000 سے زائد بچے شامل ہیں، جب کہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں جن کے ملبے تلے دبے ہونےکا خدشہ ہے۔
اس حوالے سے فلسطینی شہری دفاع کا کہنا ہے کہ ملبے تلےدبے فلسطینیوں کو نکالنے میں شدید دشواریاں ہیں، ایندھن کی کمی سے شہری دفاع کے پاس اب صرف ایک گاڑی قابل استعمال ہے۔ اسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو مصر میں دھکیلنا ہے: اقوام متحدہ
دوسری جانب اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ اسرائیل کا منصوبہ فلسطینیوں کو غزہ سے مصر میں دھکیلنا ہے۔امدادی ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی شمالی غزہ میں تباہی اس منصوبے کا پہلا قدم تھا۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ سے فلسطینیوں کو انخلا کی دھمکی اس منصوبے کا اگلا قدم ہے، جنوبی غزہ میں 19 لاکھ فلسطینی بدترین حالات میں پھنسے ہیں۔
امدادی ایجنسی کے مطابق اسرائیل کی فلسطینیوں کو مصر میں دھکیلنے کی کوششیں جاری ہیں، اگر یہی صورتحال رہی تو یہ دوسرا نکبہ ہوگا، غزہ کی سرزمین فلسطینیوں کی نہیں رہےگی۔ خیال رہےکہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اس دن کو نکبہ یا قیامت کے طور پر مناتے ہیں۔ ’اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا‘ فلسطینی کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نےکہا ہےکہ اسرائیل طاقت سے اپنا کوئی یرغمالی رہا نہیں کراسکتا۔ مذاکرات کے بغیر کوئی یرغمالی رہا نہیں ہوگا، فوجی طاقت سے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرایا جا سکتا۔ ابوعبیدہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جنگی کابینہ مذاکرات کیے بغیر اپنے یرغمالیوں کو رہا نہیں کراسکتی، اسرائیلی یرغمالی کی ہلاکت طاقت کے زور پر رہا کرانےکی کوشش کا نتیجہ ہے۔ القسام بریگیڈز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 روز میں غزہ میں ہمارے لوگوں نے 180 سے زائد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو تباہ کیا ہے، جھڑپوں میں اسرائیلی فوجیوں کا بڑا جانی نقصان ہوا ہے، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہماری مزاحمت جاری رہےگی۔
انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ غزہ کے لوگوں کی حمایت اور جنگ بندی کے لیے احتجاج جاری رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں