6

فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ جاری

(آتش نیوز) فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کا معاملہ، سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کا اضافی نوٹ سامنے آ گیا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو، آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں، جسٹس عائشہ ملک نے مزید کہا کہ آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں، متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا، جسٹس عائشہ ملک اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے، جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے۔

اسی طرح جسٹس یحییٰ آفریدی کے 20 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں کہاگیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ انکا عمل کسی بیرون ملک کی ایماء پر سازش کے تحت تھا، ایف بی علی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا کہ سیکشن 2(1) ڈی ٹو دفاع پاکستان سے متعلقہ ہے،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے کہ کس سے یہ ثابت ہوسکے کہ ملوث ملزمان نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایسا کیا، 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 2892 مرد و خواتین گرفتار ہوئے،103 مرد ملزمان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل چلایا جائے گا، س کیس کو سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ کو سننا چاہئے تھا،یہ عدالت اصول طے کر چکی ہے کہ ایک بڑے بینچ کا فیصلہ چھوٹے عدالتی بینچز تبدیل نہیں کرسکتے ۔
5 ججوں کا عدالتی فیصلہ 5 جج ختم نہیں کرسکتے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں